MOJ E SUKHAN

قاتل یہاں پہ بھائی کا بھائی ہے دوستو

غزل

قاتل یہاں پہ بھائی کا بھائی ہے دوستو
دنیا یہ کیسے موڑ پہ آئی ہے دوستو

مہر و وفا سے اب ہمیں رغبت نہیں رہی
محفل کدورتوں کی سجائی ہے دوستو

لٹنے پہ گھر ہمارا وہ ایسے ہیں مطمئن
امید ان کی جیسے بر آئی ہے دوستو

رکھوں جو دل میں بات تو گھٹتا ہے میرا دم
کیسے بتاؤں بات پرائی ہے دوستو

داغ جگر چھپا کے نہ رکھوں تو کیا کروں
ان سے یہی نشانی تو پائی ہے دوستو

ہر قسم کی برائی سے بچنا ہے لازمی
چھوٹی ہو یا بڑی ہو برائی ہے دوستو

ہر شعر میں ہے ایک حقیقت چھپی ہوئی
ہاتفؔ نے یہ غزل جو سنائی ہے دوستو

ہاتف عارفی فتح پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم