MOJ E SUKHAN

قافلے یادوں کے یوں دل میں مرے در آئے

غزل

قافلے یادوں کے یوں دل میں مرے در آئے
جیسے پردیس سے برسوں میں کوئی گھر آئے

وصل کی راہ میں ہے ہجر کا صحرائے عظیم
کیسے ملنے کبھی دریا سے سمندر آئے

آتش صحن چمن صرف چمن تک نہ رہی
چند شعلے مرے دامن پہ بھی اڑ کر آئے

قرض احباب کا اس وقت کیا میں نے ادا
جب مرے سامنے وہ تان کے خنجر آئے

ظلم و بیداد کا سورج ہے سوا نیزے پر
کیوں نہ اس دور میں بھی کوئی پیمبر آئے

ان سے اتنا بھی تعلق نہ بڑھا تو اے دل
مجھ سے ملنے کا کوئی پل نہ میسر آئے

دل میں شاداںؔ مرے آباد ہے وہ غنچہ دہن
جس کی ہر سانس سے خوشبوئے گل تر آئے

شاداں بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم