MOJ E SUKHAN

قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے

قبلۂ دل کعبۂ جاں اور ہے

سجدہ گاہ اہل عرفاں اور ہے

ہو کے خوش کٹواتے ہیں اپنے گلے

عاشقوں کی عید قرباں اور ہے

روز و شب یاں ایک سی ہے روشنی

دل کے داغوں کا چراغاں اور ہے

خار دکھلاتی ہے پھولوں کی بہار

بلبلو اپنا گلستاں اور ہے

قید میں آرام آزادی وبال

ہم گرفتاروں کا زنداں اور ہے

بحر الفت میں نہیں کشتی کا کام

نوح سے کہہ دو یہ طوفاں اور ہے

کس کا اندیشہ ہے برق و سیل سے

اپنے خرمن کا نگہباں اور ہے

درد وہ دل میں وہ سینہ پر ہے داغ

جس کا مرہم جس کا درماں اور ہے

کعبہ رو محراب ابرو اے امیرؔ

اپنی طاعت اپنا ایماں اور ہے

امیر مینائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم