MOJ E SUKHAN

قت ہر بار بدلتا ہوا رہ جاتا ہے

وقت ہر بار بدلتا ہوا رہ جاتا ہے
خواب تعبیر میں ڈھلتا ہوا رہ جاتا ہے

تجھ سے ملنے بھی چلا آتا ہوں ملتا بھی نہیں
دل تو سینے میں مچلتا ہوا رہ جاتا ہے

ہوش آتا ہے تو ہوتی ہے کماں اپنی طرف
اور پھر تیر نکلتا ہوا رہ جاتا ہے

شمشیر حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم