MOJ E SUKHAN

قدم قدم پہ ٹھہرتے تھے ڈر ہی ایسا تھا

غزل

قدم قدم پہ ٹھہرتے تھے ڈر ہی ایسا تھا
نہ طے ہوا کبھی ہم سے سفر ہی ایسا تھا

مہیب سائے سے آتے رہے نظر ہر سو
یہ ذکر دشت نہیں اپنا گھر ہی ایسا تھا

نہ راس آئے ہیں عیش و نشاط کے لمحے
نظام دہر کا ہم پر اثر ہی ایسا تھا

کوئی بھی عیب پھٹکنے نہ پایا پاس اپنے
ہمارے پاس طلسم ہنر ہی ایسا تھا

ہمیں یہ شوق کہ طوفاں کی موج سے کھیلیں
مگر کنارے پہ لایا بھنور ہی ایسا تھا

یہیں سے آتی تھیں ہر شب عجیب آوازیں
نگر سے دور پرانا کھنڈر ہی ایسا تھا

اندھیری وادیاں بھی ہم کو جگمگاتی لگیں
ہمارے پاس چراغ نظر ہی ایسا تھا

ہر ایک شخص یہاں تھا مکھوٹا پہنے ہوئے
تمام نگروں میں اپنا نگر ہی ایسا تھا

بہار اور خزاں ایک سے ہیں اس کے لئے
ہمارے باغ کا تنہا شجر ہی ایسا تھا

نہ خم ہوا کسی جابر کے روبرو گوہرؔ
سدا بلند رہا اپنا سر ہی ایسا تھا

کلدیپ گوہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم