MOJ E SUKHAN

قرار دل فسانہ ہو گیا ہے

غزل

قرار دل فسانہ ہو گیا ہے
تمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہے

تمہارے وعدۂ فردا کا حیلہ
قیامت کا بہانہ ہو گیا ہے

پرانے دوستوں کے گھر سنا ہے
تمہارا آنا جانا ہو گیا ہے

تمہارے ظلم کے لعل و گہر سب
ہمارا دل خزانہ ہو گیا ہے

دعائیں دیں مرے سینہ کو ان کا
بہت اچھا نشانہ ہو گیا ہے

رئیسانہ غزل ہے بیت در بیت
غریبوں کا ٹھکانہ ہو گیا ہے

محمد رئیس علوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم