MOJ E SUKHAN

قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دن

قسمت برے کسی کے نہ اس طرح لائے دن
آفت نئی ہے روز مصیبت ہے آئے دن

دن سن یہ اور دن دئیے اللہ کی پناہ
اس ماہ نے تو خوب ہی ہم سے گنائے دن

ہے دم شماری دن کو تو اختر شماری شب
اس طرح تو خدا نہ کسی کے کٹائے دن

ان کی نظر پھری ہو تو کیا اپنے دن پھریں
ابر سیہ گھرا ہو تو کیا منہ دکھائے دن

جی جانتا ہے کیونکہ یہ کٹتے ہیں روز و شب
دشمن کو بھی خدا نہ کبھی یہ دکھائے دن

کیا لطف زیست بھرتے ہیں دن زندگی کے ہم
کیفیؔ برے کسی کے نہ تقدیر لائے دن

دتا تریہ کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم