MOJ E SUKHAN

قطرہ قطرہ بکھر رہا ہے کوئی

غزل

قطرہ قطرہ بکھر رہا ہے کوئی
بس کرو ہجر مر رہا ہے کوئی

کوئی اب کس طرح بتائے اسے
تجھ سے امید کر رہا ہے کوئی

اپنے زخموں کی بد مزاجی میں
پٹریوں سا اکھڑ رہا ہے کوئی

گرد ہوتی ہوئی صداؤں سے
خامشی سے نتھر رہا ہے کوئی

اپنی سانسوں کے خالی برتن میں
مستقل پیاس بھر رہا ہے کوئی

دیکھ چہرہ بگڑ نہ جائے کہیں
بے تحاشہ سنور رہا ہے کوئی

ثروت زہرا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم