MOJ E SUKHAN

قفس کو لے کے اڑنا پڑ رہا ہے

قفس کو لے کے اڑنا پڑ رہا ہے
یہ سودا مجھ کو مہنگا پڑ رہا ہے

مری ہر اک مسافت رائیگاں تھی
مجھے تسلیم کرنا پڑ رہا ہے

سنا ہے ایک جادو ہے محبت
یہ جادو ہے تو الٹا پڑ رہا ہے

محبت ہے ہمیں اک دوسرے سے
یہ آپس میں بتانا پڑ رہا ہے

جو رہنا چاہتا ہے لا تعلق
تعلق اس سے رکھنا پڑ رہا ہے

سمجھتی تھی بہت آسان جن کو
انہیں کاموں میں رخنہ پڑ رہا ہے

ہوئی جاتی ہے پھر کیوں دور منزل
مرا پاؤں تو سیدھا پڑ رہا ہے

میں کن لوگوں سے ملنا چاہتی تھی
یہ کن لوگوں سے ملنا پڑ رہا ہے

میں اب تک مر نہیں پائی ہوں شبنمؔ
سو اب تک مجھ کو جینا پڑ رہا ہے

شبنم شکیل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم