MOJ E SUKHAN

قیدی ہو جیسے قید میں زنجیر کے بغیر

قیدی ہو جیسے قید میں زنجیر کے بغیر
زندہ ہوں اس طرح تری تصویر کے بغیر

سادہ دلی تو دیکھئے سانپوں کو مارنے
تاریکیوں میں آگئے تنویر کے بغیر

میرے عدو کو اے خدا اس کی خبر نہ ہو
گھر سے نکل پڑا ہوں میں شمشیر کے بغیر

وہ کہہ رہا ھے ساتھ نبھائے گا عمر بھر
سچ کیسے مان لوں کسی تحریر کے بغیر

تو جس کتابِ دین کو پڑھتا ھے رات دن
اس کو سمجھ نہ پائے گا تفسیر کے بغیر

گھر کا تصورات میں نقشہ بنا لیا
اس میں ہی رہ رہا ہوں میں تعمیر کے بغیر

بس تیرے ساتھ گھر سے نکلنے کی دیر تھی
مشہور ہو گیا ہوں میں تشہیر کے بغیر

سہیل اقبال

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم