لالی والی،ٹیکا ویکا،بُندے وُندے پھیکے ہیں
تیرے اس معصوم سے مکھ کے آگے سارے پھیکے ہیں
چاندی جیسے تن کو تیرے دیکھوں تو یوں لگتا ہے
دریا وریا،ساگر واگر،جھرنے ورنے پھیکے ہیں
تُو پہنے تو بیش بہا ہیں اور اُتار کے رکھ دے تو
سونا وونا،موتی ووتی،ہیرے ویرے پھیکے ہیں
کم کم بولے لیکن جب بھی بولے تو لگتا ہے سب
غزلیں وزلیں،نظمیں وظمیں،نغمے وغمے پھیکے ہیں
جب سے تیرا چہرہ دیکھا تب سے میری نظروں میں
سورج وورج،چندا وندا،تارے وارے پھیکے ہیں
آنکھیں کالی،ہونٹ گلابی ہیں تو پھر بازاروں کی
سرخی ورخی،کاجل واجل،کجرے وجرے پھیکے ہیں
تیری اک مسکان کے آگے تیرے بابر کا سارا
غصہ وصہ،رنجش ونجش،شکوے وکوے پھیکے ہیں
فیض عالم بابر