MOJ E SUKHAN

لب پر دل کی بات نہ آئی

لب پر دل کی بات نہ آئی
واپس بیتی رات نہ آئی

خشک ہوئیں رو رو کر آنکھیں
مدھ ماتی برسات نہ آئی

میری شب کی تاریکی میں
تاروں کی سوغات نہ آئی

مے خانے کی مست فضا میں
راس مجھے ہیہات نہ آئی

دل تو امڈا رو نا سکا میں
چھائی گھٹا برسات نہ آئی

میرا چاند نکلنے کو تھا
شام سے پہلے رات نہ آئی

جس پر محفل لٹ جاتی ہے
تجھ کو ضیاؔ وہ بات نہ آئئ

ضیاء فتح آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم