MOJ E SUKHAN

لرزتے ٹوٹتے گرتے ہوئے جہاں سے نکل

لرزتے ٹوٹتے گرتے ہوئے جہاں سے نکل
زیادہ خوف زدہ ہے تو اس مکاں سے نکل

ہمارے دل کا تعلق نہیں زمانے سے
سو اپنی خواہش دنیا اٹھا یہاں سے نکل

ترے جمال کی لو تیرے بعد رہ جائے
دیے جلاتا ہوا اس جہان جاں سے نکل

میں رب کے نور سے محو کلام ہوں سر شام
سوئے چراغ دعا تو بھی درمیاں سے نکل

اب اس کے بعد قیامت ہے تو بھی اے شہزادؔ
دعائیں پڑھتا ہوا شہر بے اماں سے نکل

قمر رضا شہزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم