MOJ E SUKHAN

لرز رہا تھا فلک عرض حال ایسا تھا

لرز رہا تھا فلک عرض حال ایسا تھا
شکستگی میں زمیں کا سوال ایسا تھا

کمال ایسا کہ حیرت میں چرخ نیلی فام
شجر اٹھا نہ سکا سر زوال ایسا تھا

کسی وجود کی کوئی رمق نہ ہو جیسے
دراز سلسلۂ ماہ و سال ایسا تھا

کھلا ہوا تھا بدن پر جراحتوں کا چمن
کہ زخم پھیل گیا اندمال ایسا تھا

کبھی یہ تخت سلیماں کبھی صبا رفتار
نشہ چڑھا تو سمند خیال ایسا تھا

گھرے ہوئے تھے جو بادل برس کے تھم بھی گئے
بچھا ہوا تھا جو تاروں کا جال ایسا تھا

کبھی وہ شعلۂ گل تھا کبھی گل شعلہ
مزاج حسن میں کچھ اعتدال ایسا تھا

وہ آنکھیں قہر میں بھی کر گئیں مجھے شاداب
فروغ بادہ میں رنگ جمال ایسا تھا

کسی سے ہاتھ ملانے میں دل نہیں ملتا
طلب میں شائبہ احتمال ایسا تھا

سید امین اشرف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم