MOJ E SUKHAN

لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں

لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں
میں نے بھی زخم دل کے ان کو دکھا دئیے ہیں

کچھ حرف آرزو تھا کچھ یاد عیش رفتہ
جتنے تھے نقش دل میں ہم نے مٹا دیئے ہیں

فرط غم و الم سے جب دل ہوا ہے گریاں
اس نے عنایتوں کے دریا بہا دیئے ہیں

دیکھے ہیں تیرے تیور دھوکا نہ کھائیں گے اب
اٹھتے تھے ولولے کچھ ہم نے دبا دیئے ہیں

اس دل نشیں ادا کا مطلب کبھی نہ سمجھے
جب ہم نے کچھ کہا ہے وہ مسکرا دیئے ہیں

شوخ کر دیا ہے چھڑیوں سے ہم نے تم کو
کچھ حوصلے ہمارے تم نے بڑھا دیئے ہیں

کوئی تجھ کو دیکھے پردہ اٹھانے والے
تو نے تجلیوں کے پردے گرا دیئے ہیں

کرتا ہوں وحشتؔ ان سے عرض نیاز پنہاں
اس کام کے طریقے دل نے بتا دیئے ہیں

وحشت رضا علی کلکتوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم