MOJ E SUKHAN

لفظوں کا نیرنگ ہے میرے فن کے جادو سے

لفظوں کا نیرنگ ہے میرے فن کے جادو سے
اک اک رنگ الگ کر سکتا ہوں میں خوشبو سے

دونوں پریشاں دونوں بوجھل دونوں ہی گھنگھور
گہرا رشتہ ہے بادل کا تیرے گیسو سے

میری پیشانی پر جھلکی میرے لہو کی آگ
رات ڈھلے کچھ چاند سا اگنا اس کے پہلو سے

اچھی صورت کوئی اچانک سامنے جب آ جائے
اپنی ہی انگلی کٹ جاتی ہے اپنے چاقو سے

ہاتھ کو ہاتھ گھنی ظلمت میں جب نہ سمجھائی دیا
سمت ملی ہے اک آوارہ تنہا جگنو سے

رات گئے جب سو جاتا ہے پانی گہری نیند
نغموں کی لہریں اٹھتی ہیں چلتے چپو سے

رمزؔ اٹھے ہیں ہم بھی سنبھالے اپنا تیر کمان
ہم کو بھی وحشت کرنی ہے آج اک آہو سے

محمد احمد رمز

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم