MOJ E SUKHAN

لفظ تحریر بنتے جاتے ہیں

لفظ تحریر بنتے جاتے ہیں
میری تقدیر بنتے جاتے ہیں

بہہ رہے ہیں جو آنکھ سے آنسو
دل کی تفسیر بنتے جاتے ہیں

کتنے سرکش ہیں آپ کے گیسو
جیسے زنجیر بنتے جاتے ہیں

نیند سی آگئی خیالوں کو
خواب تعبیر بنتے جاتے ہیں

جو بھی غم ملتے ہیں زمانے سے
اپنی جاگیر بنتے جاتے ہیں

بول رانجھے کی نَے کے اے مفتی ؔ
وقت کی ہیر بنتے جاتے ہیں

سید عبدالستار مفتی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم