MOJ E SUKHAN

لفظ خوشبو میں ڈھالتا منظر

غزل

لفظ خوشبو میں ڈھالتا منظر
لیجئے شعر بن گیا منظر

کیسا سندر تھا اک زمانے میں
تیری آنکھوں میں ڈوبتا منظر

رنگ موسم سے اڑ گئے سارے
کینوس پر پڑا رہا منظر

آپ کا جسم بھی ہے مٹی کا
ایک نازک سا بھربھرا منظر

مجھ کو حیرت سے مار ڈالے گا
آئنے میں سجا ہوا منظر

آہ کمرے میں جاگتے رہنا
آہ کھڑکی میں سو گیا منظر

اس نے دامن جھٹک لیا توبہ
میرے ہاتھوں سے گر گیا منظر

تم یہاں تھے تو تھا یہیں پر وہ
پھر درختوں میں جا چھپا منظر

کوئی آواز پھر سے گونجی ہے
ہو گیا پھر ہرا بھرا منظر

کس کی آہٹ ہے سونی گلیوں میں
کس کا کھلتا ہے رات کا منظر

کوئی مفلس کی پونجی ہو جیسے
جوڑتی ہوں ذرا ذرا منظر

عاصمہ طاہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم