MOJ E SUKHAN

لمحات زندگی میں کچھ ایسے بھی آئے ہیں

غزل

لمحات زندگی میں کچھ ایسے بھی آئے ہیں
دل پر پڑی ہے چوٹ تو ہم مسکرائے ہیں

یوں ہم نے گلستاں سے اندھیرے مٹائے ہیں
بجھتے ہوئے چراغ لہو سے جلائے ہیں

کچھ غم نہیں جو پھیلی ہے ہر سو غموں کی دھوپ
سر پر ہمارے آپ کی زلفوں کے سائے ہیں

ہوں منتظر وہ آئیں تو ان پر کروں نثار
پلکوں پہ میں نے چند ستارے سجائے ہیں

دور خزاں بھی دل سے فراموش ہو گیا
اب کے برس بہار نے وہ گل کھلائے ہیں

ان کا مقام کم نہیں لات و منات سے
لوگوں نے خواہشات کے جو بت بنائے ہیں

سب کے دلوں میں آتش نفرت ہے شعلہ زن
دانشؔ ہم آج کون سی بستی میں آئے ہیں

دانش فراہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم