MOJ E SUKHAN

لمحوں میں ایک عمر کی محنت خراب کی

غزل

لمحوں میں ایک عمر کی محنت خراب کی
اس دھوپ نے مکان کی رنگت خراب کی

رستے میں پھول دیکھ کے ہم لوگ ڈر گئے
کس نے ہمارے پاؤں کی عادت خراب کی

عجلت پسند ہاتھ میں آئے ہوئے تھے ہم
کچھ گاہکوں نے پوچھ کے قیمت خراب کی

یعنی میں اس کے بعد بھی خوش ہوں یہ سوچ کر
کمرے کی جان بوجھ کے حالت خراب کی

ویسے یہ عشق کون سا لکھا تھا بخت میں
ہم نے تو اپنی آپ ہی قسمت خراب کی

کس نے ہمارے نام پہ بیچے ہیں قہقہے
کس نے ہمارے نام کی شہرت خراب کی

تنگ آ کے آسماں سے نکالا گیا ہمیں
تھوڑی بہت جو تھی یہاں وقعت خراب کی

ساحرؔ جنون شوق میں کیا کیا نہیں کیا
مٹی پلید کی کبھی عزت خراب کی

جہانزیب ساحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم