MOJ E SUKHAN

لوگوں میں دیکھ بھال کی عادت نہیں رہی

لوگوں میں دیکھ بھال کی عادت نہیں رہی
یا آئنوں کی شہر میں قیمت نہیں رہی

مانا کوئی نباہ کی صورت نہیں رہی
لیکن نہیں کہ تجھ سے محبت نہیں رہی

یوں بھی رہائی کا کوئی امکاں نہیں رہا
پہلی سی آرزو میں بھی شدت نہیں رہی

ورنہ کوئی تو آتا مرا حال پوچھنے
شاید کسی کو میری ضرورت نہیں رہی

اس کا بھی بے وفاؤں میں ہونے لگا شمار
اپنی بھی جیسے شہر میں عزت نہیں رہی

کچھ میں بھی تھک گئی ہوں اسے ڈھونڈتے ہوئے
کچھ زندگی کی پاس بھی مہلت نہیں رہی

شہناز نور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم