MOJ E SUKHAN

لوگ جو دل فگار ہوتے ہیں

غزل

لوگ جو دل فگار ہوتے ہیں
چلتے پھرتے مزار ہوتے ہیں

جو محبت میں خار ہوتے ہیں
صاحب صد وقار ہوتے ہیں

جن کے دامن میں خار ہوتے ہیں
قدردان بہار ہوتے ہیں

جو محبت شعار ہوتے ہیں
سازشوں کا شکار ہوتے ہیں

میری بربادیٔ محبت پر
آپ کیوں شرمسار ہوتے ہیں

ان کے قول و قرار کیا کہئے
صرف قول و قرار ہوتے ہیں

اپنا مطلب نکالنے والے
کس قدر ہوشیار ہوتے ہیں

پرخلوصوں کی پوچھتے کیا ہو
خار ہوتے تھے خار ہوتے ہیں

کیا خبر تھی کہ راہ الفت میں
ہر قدم خار زار ہوتے ہیں

کس توقع پہ لوگ اے عاصیؔ
زندگی پر نثار ہوتے ہیں

پنڈت ودیا رتن عاصی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم