غزل
لوگ سمجھے تھے چھپا رکھا ہے دھن گٹھری میں
ہم نے تو رکھی تھی ماتھے کی شکن گٹھری میں
آ گیا تھا ہمیں کچھ چاند ستاروں پہ ترس
ہم نے تو باندھ ہی لینا تھا گگن گٹھری میں
یہ ہنر سیکھ لیں یہ آپ کے کام آئے گا
عیب ہاتھوں پہ رکھا کرتے ہیں فن گٹھری میں
دام اتنے کہ کسی چیز کو چھونا تھا محال
باندھ کے لایا ہوں میلے سے تھکن گٹھری میں
سوچ پہ پہرا بٹھایا ہے کسی نے اب تک
کیا کوئی باندھ کے رکھ سکتا ہے من گٹھری میں
وہی اوڑھا دیا میت پہ مری اپنوں نے
میں نے جو رکھا تھا یادوں کا کفن گٹھری میں
ہم سے سچ مچ ہی بڑی بھول ہوئی تھی راحتؔ
ہم کو رکھ لینا تھی سینے کی چبھن گٹھری میں
اوم کرشن راحت