MOJ E SUKHAN

لٹنے والوں کا مددگار نہیں ہے کوئی

غزل

لٹنے والوں کا مددگار نہیں ہے کوئی
اس قبیلے کا بھی سردار نہیں ہے کوئی

میں وہ محروم تمنا ہوں کہ جس کی خاطر
بھری بستی میں عزادار نہیں ہے کوئی

شاہ زادی تری آنکھوں میں یہ دہشت کیسی
پھول ہیں ہاتھ میں تلوار نہیں ہے کوئی

دل کسی وقت کسی پر بھی فدا ہو جائے
یہ وہ کشتی ہے کہ پتوار نہیں ہے کوئی

آنکھ میں اشک نہیں ہیں تو یہی لگتا ہے
اک ستارا بھی نمودار نہیں ہے کوئی

مجھ کو اس بات سے آتا ہے بہت خوف یہاں
سب فرشتے ہیں گنہ گار نہیں ہے کوئی

دیکھ یہ زخم تراشے ہوئے لگتے ہیں تجھے
تو سمجھتا ہے مرا یار نہیں ہے کوئی

اک خلا اور بہت گہرا خلا ہے ساحرؔ
دیکھ آیا ہوں میں اس پار نہیں ہے کوئی

جہانزیب ساحر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم