MOJ E SUKHAN

لگا کے سینے سے غم کس کا انتظار کیا

لگا کے سینے سے غم کس کا انتظار کیا
شکار ہم ہوئے یا ہم نے کچھ شکار کیا

ہم اپنے آپ سے الجھے ہوئے تھے دیکھا نہیں
ہماری ذات پہ کس نے کہاں سے وار کیا

جو ساحلوں کی طلب میں تھیں کشتیاں دل کی
انہیں بھی عشق کی لہروں نے داغدار کیا

یہ صرف میرے جنوں کی ہی تو کہانی نہیں
یہاں پہ جو بھی چلا آیا اس نے پیار کیا

جھلکنے لگ گئی آنکھوں سے عمر بھر کی تھکن
تری جفاؤں کو گن گن کے جب شمار کیا

بس ایک جرم کیا ہم نے مانتے ہیں ہم
محبتوں کو زمانے پہ آشکار کیا

خلاصی رنج و الم سے ملی تو پھر ہم نے
نہ اعتبار کسی کا کیا نہ پیار کیا

محبتوں کا اثر دیرپا نہیں ہوتا
یہ جانتے ہوئے خود پر اسے سوار کیا

وہ نفرتوں کے بھی قابل نہیں تھے لوگ شمیم
جنہیں کہانی میں اپنا کبھی شمار کیا

شمیم چودھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم