MOJ E SUKHAN

لہراتا ہے خواب سا آنچل اور میں لکھتا جاتا ہوں

لہراتا ہے خواب سا آنچل اور میں لکھتا جاتا ہوں
پلکیں نیند سے بوجھل اور میں لکھتا جاتا ہوں

جیسے میرے کان میں کوئی چپکے چپکے کہتا ہے
عشق جنوں ہے عشق ہے پاگل اور میں لکھتا جاتا ہوں

چھوٹی چھوٹی بات پہ اس کی آنکھیں بھر بھر آتی ہیں
پھیلتا رہتا ہے پھر کاجل اور میں لکھتا جاتا ہوں

آنکھ میں اس کے عکس کی آہٹ دستک دیتی رہتی ہے
بھر جاتی ہے اشک سے چھاگل اور میں لکھتا جاتا ہوں

مدھم مدھم سانس کی خوش بو میٹھے میٹھے درد کی آنچ
رہ رہ کے کرتی ہے بیکل اور میں لکھتا جاتا ہوں

دھیمے سروں میں درد کا پنچھی اپنی دھن میں گاتا ہے
پیاسی روحیں پیاس کا جنگل اور میں لکھتا جاتا ہوں

اس کے پیار کی بوندیں ٹپ ٹپ دل میں گرتی رہتی ہیں
نرم گداز و شوخ و چنچل اور میں لکھتا جاتا ہوں

جاوید صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم