MOJ E SUKHAN

لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا

لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا
پھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں ملا کے لا

کہتے ہیں عمرِ رفتہ کبھی لوٹتی نہیں
جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

ساغر شکن ہے شیخِ بلا نوش کی نظر
شیشے کو زیرِ دامنِ رنگیں چھپا کے لا

کیوں جا رہی ہے روٹھ کے رنگینئ بہار
جا ایک مرتبہ اسے پھر ورغلا کے لا

دیکھی نہیں ہے تو نے کبھی زندگی کی لہر
اچھا تو جا عدمؔ کی صراحی اٹھا کے لا

عبدالحمید عدم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم