MOJ E SUKHAN

لہو تھے ہاتھ مگر معجزات لکھتا رہاسہ

لہو تھے ہاتھ مگر معجزات لکھتا رہا
جو لکھ نہ پایا کوئی میں وہ بات لکھتا رہا

سمجھ نہ پایا تو پھر زندگی کو کاغذ پر
ثبات لکھتا رہا بے ثبات لکھتا رہا

مجھے تھا علم کہ کٹ جائیں گے یہ ہاتھ مرے
ہمیشہ دن کو دن اور شب کو رات لکھتا رہا

پلٹ کے آنا بھی جانے نصیب ہو کہ نہ ہو
میں ہجرتوں کو بھی اکثر برات لکھتا رہا

لکھا نہ مقبرہ ۔مرقد۔ نہ قبر میں نے کبھی
میں بے جھجک انہیں جائے حیات لکھتا رہا

ہر ایک شخص جداگانہ سوچ رکھتا ہے
شکار سب نے لکھا پر میں گھات لکھتا رہا

وہ میری وسعتِ دل سے بڑی نہیں ثاقب
ہر ایک جسکو یہاں کائنات لکھتا رہا

سہیل ثاقب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم