MOJ E SUKHAN

لہو نہ آنکھ سے ٹپکا نہ زخم دل ابھرے

غزل

لہو نہ آنکھ سے ٹپکا نہ زخم دل ابھرے
بھری بہار کے یہ دن بہت گراں گزرے

وہ پر فریب نگاہیں وہ اعتماد کی موت
نہ جانے ذہن پہ ماضی کے نقش کیوں ابھرے

حسین لمحے مری زندگی کے لوٹا دے
جو آرزو میں کٹے تیری یاد میں گزرے

جنوں نواز نگاہیں ہیں رہ نما اپنی
نہ جانے قافلۂ زندگی کہاں ٹھہرے

سوال ترک وفا تم نے خود اٹھایا تھا
اداس کیوں ہیں نگاہیں یہ بال یوں بکھرے

نہ جانے آج ہی کیوں دل کی نبض ڈوب گئی
ترے دیار سے ہم یوں تو بارہا گزرے

یہی ہے جان محبت یہی شعور وفا
زباں خموش نگاہوں پہ لاج کے پہرے

قدم قدم پہ فسانے بنیں گے اے ماہرؔ
یہاں نہ آنکھ ہی بھیگے نہ منہ کا رنگ اترے

کیلاش ماہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم