MOJ E SUKHAN

لیا ہے کس قدر سختی سے اپنا امتحاں ہم نے

لیا ہے کس قدر سختی سے اپنا امتحاں ہم نے
کہ اک تلوار رکھ دی زندگی کے درمیاں ہم نے

ہمیں تو عمر بھر رہنا تھا خوابوں کے جزیروں میں
کناروں پر پہنچ کر پھونک ڈالیں کشتیاں ہم نے

ہمارے جسم ہی کیا سائے تک جسموں کے زخمی ہیں
دلوں میں گھونپ لیں ہیں روشنی کی برچھیاں ہم نے

ہمیں دی جائے گی پھانسی ہمارے اپنے جسموں میں
اجاڑی ہیں تمناؤں کی لاکھوں بستیاں ہم نے

وفا کے نام پر پیرا کئے کچے گھڑے لے کر
ڈبویا زندگی کو داستاں در داستاں ہم نے

عزیز بانو دراب وفا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم