مئے وحدت کی کہاں کوئی کمی ہے ساقی
جام بھر بھر کے ترے نام سے پی ہے ساقی
بزم تیری تو یہاں خوب سجی ہے ساقی
لطف میں تیرے نہیں کوئی کمی ہے ساقی
دین و ایمان ملا جس کی بدولت ہم کو
مستی اس کی ہی مرے دل میں بسی ہے ساقی
مئے عرفاں جو نگاہوں سے پلائی تُو نے
روح اورجان میں اب خوب خوشی ہے ساقی
مجھ کو سرمست کئے رکھا ہے فیضان ترا
تیری مشکور مری تشنہ لبی ہے ساقی
دور چلتا ہی رہے جام و سبو کا ہر دم
تیری الفت کی لگن دل میں لگی ہے ساقی
ایک دو گھونٹ سے دل بھرتا نہیں ہے میرا
مست کر خوب پلا آگ لگی ہے ساقی
سن کے میں نام ترا چل کے یہاں آیا ہوں
سارا میخانہ پلا دے جو سخی ہے ساقی
سخی سرمست