MOJ E SUKHAN

مئے وحدت کی کہاں کوئی کمی ہے ساقی

مئے وحدت کی کہاں کوئی کمی ہے ساقی
جام بھر بھر کے ترے نام سے پی ہے ساقی

بزم تیری تو یہاں خوب سجی ہے ساقی
لطف میں تیرے نہیں کوئی کمی ہے ساقی

دین و ایمان ملا جس کی بدولت ہم کو
مستی اس کی ہی مرے دل میں بسی ہے ساقی

مئے عرفاں جو نگاہوں سے پلائی تُو نے
روح اورجان میں اب خوب خوشی ہے ساقی

مجھ کو سرمست کئے رکھا ہے فیضان ترا
تیری مشکور مری تشنہ لبی ہے ساقی

دور چلتا ہی رہے جام و سبو کا ہر دم
تیری الفت کی لگن دل میں لگی ہے ساقی

ایک دو گھونٹ سے دل بھرتا نہیں ہے میرا
مست کر خوب پلا آگ لگی ہے ساقی

سن کے میں نام ترا چل کے یہاں آیا ہوں
سارا میخانہ پلا دے جو سخی ہے ساقی

سخی سرمست

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم