MOJ E SUKHAN

مانگے کے چراغوں سے اُجالا نہیں کرتے

مانگے کے چراغوں سے اُجالا نہیں کرتے
پلکوں سے گِرے اشک سنبھالا نہیں کرتے

تاخیر ہوئی ہے تو کوئی وجہ بھی ہوگی
یوں دل میں کوئی واہمے پالا نہیں کرتے

پھر بعد میں رونا پڑے جس کے لیے، اُس کو
یوں خواب جھروکوں سے نکالا نہیں کرتے

جس شخص کے ہونٹوں سے ہنسی چھین لی تم نے
کیوں آکے تم اب اس کو ازالہ نہیں کرتے

پھر اس کے جنازے کو اٹھانا بھی پڑے گا
عزت سرِ بازار اچھالا نہیں کرتے

فاخرہ بتول

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم