MOJ E SUKHAN

ماں محبت کی اک کتاب ہے تو

ماں محبت کی اک کتاب ہے تو
اولیں میرا انتخاب ہے تو

جس کے دم سے مہک ہے سانسوں میں
شاخِ دل پر کھلا گلاب ہے تو

سچ تو یہ ہے کے ماں حقیقت میں
ہر کہانی کا انتساب ہے تو

تجھ کو معلوم ہے ناں ماں میری
ہر سوالوں کا بس جواب ہے تو

ہار سکتی نہیں کسی صورت
جب تلک مجھ کو دستیاب ہے تو

تو حقیقت میں میری جنت ہے
ماں عقیدت کا ایک باب ہے تو

ماں مرے دل کے آسمانوں کا
اک منور سا ماہتاب ہے تو

جس کی تعبیر ہے مری ہستی
میری آنکھوں کا وہ ہی خواب ہے تو

دے گئی ہے تو مجھ کو عکسِ شمیم
ماں زمانے میں لاجواب ہے تو

شمیم چودھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم