MOJ E SUKHAN

ماہ رو نکلے ہے نت اجلی طرح

غزل

ماہ رو نکلے ہے نت اجلی طرح
اس سبب روشن ہے دل پتلی طرح

سن مرا رونا ہوا ٹک مہرباں
یار نے برسات میں بدلی طرح

غمزہ کی شمشیر چمکاتا ہے وہ
کیوں نہ ہو دل مضطرب بجلی طرح

مچھی دیتا نئیں مجھے وہ بحر سوں
چھوڑ دی اس نے مگر اگلی طرح

کیوں مرے آگے اکڑ چلتا ہے آج
مجھ کو بھولی نئیں تری پچھلی طرح

سرنگوں ہے سرو قد کی فکر میں
بید نے مجنوں کی سب لیلی طرح

عشق نے آ کر پچھاڑا دل کتیں
گرگ نیں آہو سیں کی جنگلی طرح

مجھ دوانے کی نظر میں اے پری
تاش اور کمخاب ہے کملی طرح

گالی دے کر مسکراتا ہے وہ شوخ
مبتلاؔ اب یوں نئی نکلی طرح

عبید اللہ خاں مبتلا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم