MOJ E SUKHAN

متاع حیات

متاع حیات

اے متاع حیات
یہ جو شیرازہ بکھرا ہے بیچ سینے کے
چلو اسے سمیٹ لو
یوں نہ ہو
کہیں بہت دیر ہوجاٸے
یہ جو ہمارا پھول
جنت کا پھول ہے
اسے بکھرنے سے بچالے
اے میری متاعِ حیات
اے خالق ِدوجہاں
تو کن فیکون کہہ دے
میری فریاد سن لے
تیری خلق کو یقین نہیں رہا
تو میرا قرب جانتا ہے
تو میری آرزو جانتا ہے
میری آزمائش آسان کردے
اے متاعِ حیات
اے مرے خالق شوق
میرے سینے میں لگی آتش کیلئے
کسی چڑیا کا نزول کر
جو آب زم زم لا دے
میرے غم کی حدت کو ٹھہراؤ عطا کر
اے متاعِ حیات
اے نورالسموات
میری آنکھوں کو حیاء دے
مجھے یہ سب عطا کر
میرے بدن کو صبر عظیم دے
اے متاعِ حیات
اے خالق آرزو
مجھے سنبھال لے
اے متاعِ حیات
اے میری متاعِ حیات

مدیحہ شوق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم