MOJ E SUKHAN

مت فکر مداوا کر اے دست مسیحائی

غزل

مت فکر مداوا کر اے دست مسیحائی
دریاؤں سے گہری ہے اس زخم کی گہرائی

اک منزل ہجرت میں جب یاد تری آئی
رنگوں کو چرا لائی خوشبو کو اڑا لائی

ہر چہرہ پرایا ہے ہر آنکھ میں نفرت ہے
جائے گی کہاں لے کر اے شرم شناسائی

یہ کیسا سویرا تھا کس درد کا سورج تھا
ہر روشنی ظلمت کی دہلیز پہ لے آئی

جب ہجر مقدر ہے ملنے ہی نہیں دے گا
سورج کی تو یکتائی میں چاند کی تنہائی

اب تم کو بھی ہونا ہے اوجھل مری نظروں سے
دیتی ہے صدا مجھ کو وہ منزل رسوائی

آہ سنبھلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم