MOJ E SUKHAN

مثل آئینہ با صفا ہیں ہم

مثل آئینہ با صفا ہیں ہم
دیکھنے ہی کے آشنا ہیں ہم

نہیں دونوں جہاں سے کام ہمیں
اک فقط تیرے مبتلا ہیں ہم

دیکھ سائے کی طرح اے پیارے
ساتھ تیرے ہیں اور جدا ہیں ہم

ٹک تو کر رحم اے بت بے رحم
آخرش بندۂ خدا ہیں ہم

ظلم پر اور ظلم کرتے ہو
اس قدر قابل جفا ہیں ہم

جوں صبا نام کو تو ہیں ہم لوگ
لیک دیکھا تو جا بہ جا ہیں ہم

زلفیں کہتی ہیں اس کی، عاشق کے
مار لینے کو تو بلا ہیں ہم

جب سے پیدا ہوئے ہیں جوں افلاک
آہ گردش ہی میں سدا ہیں ہم

ہم بھی کچھ چیز ہیں میاں لیکن
یہ نہیں جانتے کہ کیا ہیں ہم

شعلۂ ناتوان کی مانند
ہاتھ میں تیرے اے صبا ہیں ہم

گر یہی ہے ہوا یہاں کی تو آہ
اب کوئی آن میں ہوا ہیں ہم

تو جو کہتا ہے ہر گھڑی تیرے
دیکھنے سے بہت خفا ہیں ہم

کیا کریں یار تو ہی کر انصاف
تجھ پہ مائل نہیں ہیں یا ہیں ہم

دل کے ہاتھوں سے اے میاں جرأتؔ
زندگانی سے بھی خفا ہیں ہم

قلندر بخش جرات

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم