MOJ E SUKHAN

مجھے بھی پڑھ لو کہ حرف ثواب بن جاؤں

غزل

مجھے بھی پڑھ لو کہ حرف ثواب بن جاؤں
ورق ورق ہوں کسی دن کتاب بن جاؤں

مرے بغیر بھی کچھ دن گزار لے اے دوست
نہ اتنا پی کہ میں تیری شراب بن جاؤں

بڑھا نہ فاصلے ہر روز اجنبی کی طرح
نہ یوں بلا کہ میں تجھ پر عذاب بن جاؤں

کیا تھا تو نے تو روشن چراغ کہہ کے مجھے
یہ میرا حوصلہ میں آفتاب بن جاؤں

کہاں یہ سوچا تھا گھبرا کے جس سے نکلا ہوں
پھر ایک دن اسی جنگل کا خواب بن جاؤں

بلا رہی ہیں مجھے دور کی ہوائیں آہؔ
یہ لگ رہا ہے کہ خانہ خراب بن جاؤں

آہ سنبھلی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم