MOJ E SUKHAN

مجھے تو خود نہیں معلوم یہ ہوا کیسے

مجھے تو خود نہیں معلوم یہ ہوا کیسے
کہ اپنی عمر سے لگنے لگا بڑا کیسے

خود اپنے گھر کے ہی افراد جس کے دشمن ہوں
نشہ کسی کے وہ کہنے پہ چھوڑتا کیسے

بچا لیا تو دوبارہ بھٹکتی موجوں میں
شکار کی گئی مچھلی کو چھوڑتا کیسے

پکڑ گناہ پہ جب ہوگی روزِ حشر مری
کروں گا ماں کی نگاہوں کا سامنا کیسے

وہ میرے سامنے آتا تو کچھ نہیں کہتا
میں اُس کے سامنے جاتا تو بولتا کیسے

میں جس زمین پہ رہتا ہوں وہ ہے گردش میں
سنبھالتا بھی تو خود کو سنبھالتا کیسے

میں اُس سے ترکِ تعلّق نہ کرسکا بابر
پھنسا تھا خار میں دامن تو کھینچتا کیسے

فیض عالم بابر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم