MOJ E SUKHAN

مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھا

غزل

مجھے تو یوں بھی اسی راہ سے گزرنا تھا
دل تباہ کا کچھ تو علاج کرنا تھا

مری نوا سے تری نیند بھی سلگ اٹھتی
ذرا سا اس میں شراروں کا رنگ بھرنا تھا

سلگتی ریت پہ یادوں کے نقش کیوں چھوڑے
تجھے بھی گہرے سمندر میں جب اترنا تھا

ملا نہ مجھ کو کسی سے خراج اشکوں میں
ہوا کے ہاتھوں مجھے اور کچھ بکھرنا تھا

اسی پہ داغ ہزیمت کے لگ گئے دیکھو
یقیں کی آگ سے جس شکل کو نکھرنا تھا

میں کھنڈروں میں اسے ڈھونڈتا پھرا فکریؔ
مگر کہاں تھا وہ آسیب جس سے ڈرنا تھا

پرکاش فکری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم