MOJ E SUKHAN

مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا

غزل

مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا
یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا

میں رقص کرتا رہا ساری عمر وحشت میں
ہزار حلقۂ زنجیر بام و در میں رہا

ترے فراق کی قیمت ہمارے پاس نہ تھی
ترے وصال کا سودا ہمارے سر میں رہا

یہ آگ ساتھ نہ ہوتی تو راکھ ہو جاتے
عجیب رنگ ترے نام سے ہنر میں رہا

اب ایک وادئ نسیاں میں چھپتا جاتا ہے
وہ ایک سایہ کہ یادوں کی رہ گزر میں رہا

ساقی فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم