MOJ E SUKHAN

مجھ سے پہلے مری تصویر ترے ہاتھ میں ہے

غزل

مجھ سے پہلے مری تصویر ترے ہاتھ میں ہے
اور مرے خوابوں کی تعبیر ترے ہاتھ میں ہے

دور ہرگز نہ سمجھنا مرے ہمدم مجھ کو
یہ تصور نہیں تنویر تیرے ہاتھ میں ہے

سوچتے رہتے ہیں ہر گام پہ یہ طرز حیات
اور اثبات کی زنجیر ترے ہاتھ میں ہے

کس طرح سے یہ شب و روز گزارے ہم نے
ہر تخیل ترا توقیر ترے ہاتھ میں ہے

دور ہوں تجھ سے مگر ساتھ ہوں سائے کی طرح
اے مری زندگی تقدیر ترے ہاتھ میں ہے

اس طرح سے مرے دل نے کبھی سوچا بھی نہ تھا
اپنی پہچان کی تدبیر ترے ہاتھ میں ہے

کوئی پیمان وفا بھی نہ کیا تھا ہم نے
ہوں نشانے پہ ہر اک تیر ترے ہاتھ میں ہے

بیگم سلطانہ ذاکر ادا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم