MOJ E SUKHAN

مجھ پر ہے ابھی نزع کا عالم کوئی دم اور

مجھ پر ہے ابھی نزع کا عالم کوئی دم اور
پھر سوچ لو باقی تو نہیں کوئی ستم اور

ہے وعدہ خلافی کے علاوہ بھی ستم اور
گر تم نہ خفا ہو تو بتا دیں تمھیں ہم اور

یہ مے ہے ذرا سوچ لے اے شیخِ حرم اور
تو پہلے پہل پیتا ہے کم اور ارے کم اور

وہ پوچھتے ہیں دیکھیے یہ طرفہ ستم اور
کس کس نے ستایا ہے تجھے ایک تو ہم اور

وہ دیکھ لو احباب لیے جاتے ہیں میت
لو کھاؤ مریضِ غم فرقت کی قسم اور

اب قبر بھی کیا دور ہے جاتے ہو جو واپس
جب اتنے چلے آئے ہو دو چار قدم اور

قاصد یہ جواب ان کا ہے کس طرح یقین ہو
تو اور بیاں کرتا ہے خط میں ہے رقم اور

موسیٰؑ سے ضرور آج کوئی بات ہوئی ہے
جاتے میں قدم اور تھے آتے میں قدم اور

تربت میں رکے ہیں کہ کمر سیدھی تو کر لیں
منزل ہے بہت دور کی لے لیں ذرا دم اور

یہ بات ابھی کل کی ہے جو کچھ تھے ہمھی تھے
اللہ تری شان کہ اب ہو گئے ہم اور

بے وقت عیادت کا نتیجہ یہی ہو گا
دوچار گھڑی کے لیے رک جائے گا دم اور

اچھا ہوا میں رک گیا آ کر تہِ تربت
پھر آگے قیامت تھی جو بڑھ جاتے قدم اور

ہوتا ہے قمر کثرت و وحدت میں بڑا فرق
بت خانے بہت سے ہیں نہیں ہے تو حرم اور

قمر جلالوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم