Mujh ko khud main chuppa kay Rakhta Hay
غزل
مجھ کو خود میں چھپا کے رکھتا ہے
دھڑکنوں میں بسا کے رکھتا ہے
ہے وہی کامیاب، اپنی ہنسی
جو لبوں پر سجا کے رکھتا ہے
دل بھی کیا ہے جو اس کی یادوں کے
کچھ گھروندے بنا کے رکھتا ہے
وہی گرتا ہے دل کی راہوں پر
جو قدم ڈگمگا کے رکھتا ہے
میرے شکوے گلے وہ اپنے پاس
کس طرح مسکرا کے رکھتا ہے
اتنا شازیؔ وہ شوخ ہے تو نہیں
شور جتنا مچا کے رکھتا ہے
شازیہ عالم شازی
SHAZIA ALAM SHAZI