MOJ E SUKHAN

مجھ کو دنیا کے ہر اک غم سے چھڑا رکھا ہے

مجھ کو دنیا کے ہر اک غم سے چھڑا رکھا ہے
جلوۂ یار نے مدہوش بنا رکھا ہے

موت سے آپ کی الفت نے بچا رکھا ہے
ورنہ بیمار غم ہجر میں کیا رکھا ہے

عرصۂ حشر میں رسوائی یقینی تھی مگر
تیری رحمت نے ہر اک جرم چھپا رکھا ہے

منزل دیر و حرم چھوڑ کے اے جان جہاں
میں نے کعبہ تیری چوکھٹ کو بنا رکھا ہے

جذبۂ عشق میں تکمیل عبادت کے لئے
میں نے سر یار کے قدموں میں جھکا رکھا ہے

تیرے جلووں کی یہ شوخی ارے توبہ توبہ
ہوش موسیٰ کا سر طور اٹھا رکھا ہے

فنا بلند شہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم