غزل
محبت کی پہلی نظر اللہ اللہ
وہ طوفان جذب و اثر اللہ اللہ
قیامت تھی ان کی نظر اللہ اللہ
نہ تھی مجھ کو اپنی خبر اللہ اللہ
یہ سر اور ترا سنگ در اللہ اللہ
مقدر ہے کس اوج پر اللہ اللہ
وہ آئے تو اک لفظ بھی ان کے آگے
نہ نکلا زباں سے مگر اللہ اللہ
مرے دیدۂ شوق کی ان کے رخ پر
وہ معراج ذوق نظر اللہ اللہ
اسے چاند سورج سے تشبیہ کیا دوں
جو ہے رشک شمس و قمر اللہ اللہ
شب وعدہ ہے اور تصور میں وہ ہیں
کئے جائیے رات بھر اللہ اللہ
کسی کے وہ عارض وہ خم دار کاکل
ادھر اللہ اللہ ادھر اللہ اللہ
رہی اب نہ وہ بے نیازی کسی کی
عجب چیز ہے چشم تر اللہ اللہ
بصد نا مرادی مراد اپنی کاملؔ
کسی کا غم معتبر اللہ اللہ
کامل شطاری