MOJ E SUKHAN

محبت ہی اگر تجھ کو نہ راس آئی تو کیا ہوگا

غزل

محبت ہی اگر تجھ کو نہ راس آئی تو کیا ہوگا
ترے غم میں طبیعت میری گھبرائی تو کیا ہوگا

تجھے پانے کی خاطر کس قدر بے چین رہتا ہوں
تجھے پا کر بھی گر تسکیں نہیں پائی تو کیا ہوگا

نہیں پیتا نہ پی زاہد مگر یہ تو سمجھ لیتا
اگر ساقی نے مے آنکھوں سے برسائی تو کیا ہوگا

ہم اس کے در پہ جانے کی جو رسوائی ہے سہ لیں گے
تلاش اس کی جو در پہ غیر کے لائی تو کیا ہوگا

کیے وعدے بھی تم نے اور دی مجھ کو تسلی بھی
نہ تم آئے شب فرقت نہ نیند آئی تو کیا ہوگا

خزاں کے دور میں دیکھی بہت گلشن کی بربادی
مگر اب موسم گل میں خزاں آئی تو کیا ہوگا

حبیبؔ اس گھر کو غیر آئے جلانے کو تو کیا غم ہے
سلگتی آگ یاروں نے جو بھڑکائی تو کیا ہوگا

جے کرشن چودھری حبیب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم