MOJ E SUKHAN

محسوس لمس جس کا سر رہ گزر کیا

غزل

محسوس لمس جس کا سر رہ گزر کیا
سایا تھا وہ اسی کا جسے ہم سفر کیا

کچھ بے ٹھکانہ کرتی رہیں ہجرتیں مدام
کچھ میری وحشتوں نے مجھے در بدر کیا

رہنا نہیں تھا ساتھ کسی کے مگر رہے
کرنا نہیں تھا یاد کسی کو مگر کیا

تو آئنہ بھی آپ تھا اور عکس بھی تھا آپ
تیرے جمال ہی نے تجھے خوش نظر کیا

وہ جس ڈگر ملے گا وہیں مر مٹوں گا میں
تم دیکھنا سفر کا ارادہ اگر کیا

جب زندگی گزار دی آیا ہے تب خیال
کیوں اس کا انتظار ظفرؔ عمر بھر کیا

صابر ظفر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم