MOJ E SUKHAN

محسوس کروگے تو گزر جاؤگے جاں سے

محسوس کروگے تو گزر جاؤگے جاں سے
وہ حال ہے اندر سے کہ باہر ہے بیاں سے

وحشت کا یہ عالم کہ پس چاک گریباں
رنجش ہے بہاروں سے الجھتے ہیں خزاں سے

اک عمر ہوئی اس کے در و بام کو تکتے
آواز کوئی آئی یہاں سے نہ وہاں سے

اٹھتے ہیں تو دل بیٹھنے لگتا ہے سر بزم
بیٹھے ہیں تو اب مر کے ہی اٹھیں گے یہاں سے

ہر موڑ پہ وا ہیں مری آنکھوں کے دریچے
اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ جاتا ہے کہاں سے

کیا ناوک مژگاں سے رکھیں زخم کی امید
چلتے ہیں یہاں تیر کسی اور کماں سے

آنکھوں سے عیاں ہوتا ہے عالم مرے دل کا
مطلب ہے اس عالم کو زباں سے نہ بیاں سے

جاوید صبا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم