MOJ E SUKHAN

محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا

غزل

محفل میں غیر ہی کو نہ ہر بار دیکھنا
میری طرف بھی بھول کے سرکار دیکھنا

آغاز سبزہ سے ہے جو رخسار پر غبار
اگلے برس اسے خط گل زار دیکھنا

جب صرف گفتگو ہوں تو دیکھے انہیں کوئی
منظور ہو جو ابر گہربار دیکھنا

میں نے کہا کہ ہجر میں کچھ مشغلہ نہیں
بولے کہ رات دن در و دیوار دیکھنا

کہتا ہوں جب میں ان سے بناؤ سنگھار کو
کہتے ہیں کوئی اور طرحدار دیکھنا

میں جان بھی دریغ کروں تو گناہ گار
میرے سوا نہ اور خریدار دیکھنا

وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کچھ عیب تو نہیں
رفتار دیکھنا مری گفتار دیکھنا

شیخ زماں قدیم روش کے بزرگ ہیں
کتنا بڑا ہے گنبد دستار دیکھنا

وہ بار بار دیکھتے ہیں آئنہ میں منہ
اللہ ان کا روئے پر انوار دیکھنا

چلتے ہیں کوئے یار میں ہے وقت امتحاں
ہمت نہ ہارنا دل بیمار دیکھنا

ہوشیار پھونک پھونک کے رکھنا یہاں قدم
پرویںؔ ذرا زمانہ کی رفتار دیکھنا

پروین امِ مشتاق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم